1 اکتوبر 2012 - 20:30

پاکستان کے صنعتی اور اقتصادی مرکز کراچی میں گذشتہ ماہ ستمبر میں 272 افراد ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد واقعات میں مارے گئے –

ابنا: کراچی سے ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ ستمبر میں شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ ، قتل و غارت گری اور اغوا کے بعد قتل کرکے لاشیں پھینکنے کے علاوہ بم دھماکے اور دستی بم حملوں میں 272 افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے  جبکہ  پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے امن و امان کی بہتر صورتحال کے بلند وبالا دعووں کے باوجود شہر میں بدامنی کے واقعات نے شہریوں کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے –رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونیوالوں میں سابق ٹاؤن ناظم لیاقت آباد، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عہدیداران و کارکنان، پولیس افسران و اہلکار، سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور خواتین شامل ہیں-ادھر کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ ، قتل و غارت گری اور اغوا کے بعد قتل کرکے لاشیں پھینکنے کے واقعات نے شہریوں کو نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشن اور اسنیپ چیکنگ محض دکھاوا ہے ، پولیس کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کی آڑ میں صرف اور صرف پرامن شہریوں کو ہی نشانہ بنا کر ان پر رعب جمایا جاتا ہے۔

.....

/169